ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روشنی سے اندھیروں کی طرف جارہا ہے ملک ! بی جے پی کے گُن گانے والے کنڑا اخبار ’وجئے وانی‘نے بھی کی مرکزی حکومت پرکڑی تنقید

روشنی سے اندھیروں کی طرف جارہا ہے ملک ! بی جے پی کے گُن گانے والے کنڑا اخبار ’وجئے وانی‘نے بھی کی مرکزی حکومت پرکڑی تنقید

Wed, 01 Jan 2020 20:19:52    S.O. News Service

بھٹکل یکم / جنوری ( ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ/ایس او نیوز) وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر مالیات نرملا سیتا رامن کے ہاتھوں میں مرکزی حکومت کی غیر دانشمندانہ اور نامعقول پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی جو حالت ہورہی ہے اس کا اندازہ جہاں ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے کئے گئے سوالات سے ہورہا ہے تو دوسری طرف این ڈی اے میں شامل بی جے پی کی حلیف پارٹیوں کو بھی اس کا احساس ہورہا ہے اور وہ دھیرے دھیرے اس سے دوری بنانے لگی ہیں، وہیں پر بی جے پی اورمرکزی حکومت کے ساتھ اندھی عقیدت کا مظاہرہ کرنے والے میڈیا نے بھی اب کروٹیں لینا شروع کردیا ہے۔

 روشنی سے اندھیرے کی طرف:    کچھ ایسی ہی بات آج کنڑا میڈیامیں دیکھنے کو ملی،جب بی جے پی کا بھونپو بن کررات دن پارٹی اور مرکزی حکومت کی یکطرفہ حمایت کرنے اور گُن گانے والے کنڑا اخبار’وجئے وانی‘ نے اپنے فرنٹ صفحہ پر   ایک خصوصی رپورٹ میں ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ملک روشنی سے اندھیروں کی طرف بڑھ  رہا ہے۔

 عوام کنگال ہوگئے ہیں:    اخبار کے دہلی نیوز بیورو کے حوالے سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک طاقتور بھارت کی تشکیل کا سپنا دیکھتے ہوئے عوام نے مرکز میں نریندرا مودی کو مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار کی لگام جو تھمائی تھی اس عرصے میں ملک روشنی سے ہٹ کراورزیادہ اندھیروں کی طرف بڑھنے لگا ہے۔نوٹ بندی جیسے سخت اقدام کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام نے دوسری مرتبہ بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا، لیکن دیش کے عوام اب اقتصادی بحران کی وجہ سے کنگال ہوگئے ہیں۔

 مستقبل تار تار ہوجائے گا:    وزارتی سطح پر غیر ذمہ دارانہ طریقے، تجربہ کار افراد کو نظر انداز کرنے اورافسران کے ذریعے لگائے گئے غلط اندازوں کی وجہ سے روپے کی قدر گھٹ گئی ہے، مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اور مجموعی داخلی پیداوار(جی ڈی پی) کی گرتی ہوئی حالت نے عوام کی روزمرہ زندگی کوگرہن لگادیا ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ نئے سال2020کا پہلا سوال یہی ہے کہ کیا مرکزی حکومت اپنی ناکامیوں پر قابو پاسکے گی؟ کیا امسال یہ اندھیرا چھٹ جائے گا۔اور خودہی جواب دیا ہے کہ اگر ملک کی اقتصادی صورت حال مزید بگڑ جاتی ہے تو پھر ملک کا مستقبل تار تار ہوجائے گا۔

 نرملا سیتا رامن نشانے پر:    اخبار نے وزیر مالیات نرملا سیتا رامن کو ملک کی اقتصادی حالت بری طرح بگاڑنے کا براہ راست سب سے بڑا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اقتصادی دشواریوں پر قابو پانے کے سلسلے میں نرملا سیتارامن کی کارکردگی پر خود ان کے شوہر کی طرف سے لگائے گئے سوالیہ نشان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صحیح صورت حال کا تجزیہ کرنے کے لئے ایک اشاریہ ہے۔پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے علاوہ بہت سارے معاملات میں نرملا سیتارامن کے طریقہ کار اور سلوک کے تعلق سے خود ان کی پارٹی کے اراکین کے اندر بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔بی جے پی کے ایک ریاستی لیڈر کا کہناہے کہ ”ہمارے مشورے اور مطالبے قبول کرنا یا نہ کرنا یہ ان کے اختیار کی بات ہے، لیکن وہ تو مسکراکر بات کرنے کی بھی روادار نہیں ہیں۔“یہی وجہ سے کہ بہت سارے اراکین پارلیمان نرملا سیتا رامن سے بات کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔اخبار لکھتا ہے کہ نرملا سیتارامن نے وزیر مالیات کا عہدہ سنبھالنے کے بعد میڈیا سے بھی اپنے روابط بگاڑ لیے ہیں۔

 تجربہ کاراورباصلاحیت لیڈروں کی کمی:    اخبار نے بی جے پی میں سیاسی سوجھ بوجھ اور تجربہ کار لیڈروں کی گھٹتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سشما سوراج، ارون جیٹلی، اننت کمار، منوہر پاریکر جیسے سینئر لیڈروں کے فوت ہوجانے سے مودی سرکار میں باصلاحیت اور تجربہ کار لیڈروں کی کمی ہوگئی ہے۔ اگرامت شا، نتین گڈکری، پیوش گوئیل،راج ناتھ سنگھ کو چھوڑیں توپارٹی کے اندر سیاسی اور انتظامی تحربہ رکھنے والوں کا اس قسم کاخلاء پیدا ہوگیا ہے کہ ایسے لیڈروں کو دوربین لے کر ڈھونڈنے کی نوبت آگئی ہے۔

 ناکامی کے سات نکات:    اخبار نے مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی ناکامیوں کے سات نکات اور اسباب بڑی اہمیت کے ساتھ پیش کیے ہیں:

۱۔ جی ایس ٹی:  پیشگی تیاری کے بغیراور عجلت کے ساتھ حکومت نے جس طرح جی ایس ٹی کو لاگو کیا ہے اس پر صد فی صد عمل کروانے میں مرکزی حکومت کامیاب نہیں ہوسکی۔ توقع کے مطابق آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے ریاستوں کوٹیکس کا جتنا حصہ ملنا چاہیے، مرکزی حکومت وہ حصہ ادا کرنے میں ناکام ہوکر رہ گئی ہے۔

 ۲۔ جی ڈی پی:   مجموعی داخلی پیداوار(جی ڈی پی) کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ جاری سال کے دوسرے سہ ماہی وقفے میں جی ڈی پی کی شرح گھٹ کر 4.5کو پہنچ گئی ہے۔ یہ گزشتہ ۶ برسوں میں سب سے نچلی سطح پر پہنچنے والی شرح ہے۔

۳۔پیسے کے بہاؤمیں کمی:   بینکوں اور مالیاتی اداروں کی طرف سے رقم قرضہ دینے کی رفتار میں بھی کمی آئی ہے۔ اس کا منفی اثر مجموعی داخلی پیداوار پر پڑنا فطری بات ہے۔سرمایہ کاری کے لئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے تاجر اور صنعت کاربدحال ہوکر زمین پکڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

۴۔  تجارت کی خستہ حالت:  ملک کی کمزور اقتصادی حالت اورسرمایہ کاری کے لئے فنڈز کی کمی نے تجارت اور صنعت پر برا اثر ڈالا ہے۔ خاص کرکے آٹو موبائیل، ریئل ایسٹیٹ جیسے بہت سارے زمروں میں بحرانی کیفیت ہے۔ یہاں تک قصبوں اور دیہاتوں میں بھی لوگوں کی آمدنی میں کمی واقع ہوگئی ہے۔

۵۔گھٹتی ہوئی روپے کی  قدر:  جی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے روپے کی قدر گھٹتی جارہی ہے۔ روپے کی بے لگام گھٹتی قیمت کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 2020میں شاید روپے کی قدر فی ڈالر 74روپے کی ہوجائے گی۔اور ایسا لگ رہا ہے کہ چاہے کسی بھی قسم کی راحت رسانی (پیکیج) کا اقدام کیا جائے، لیکن روپے کی گھٹتی قیمت پر روک لگا نا ممکن نہیں ہوسکے گا۔

۶۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی:   ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی گرانی نے زندگی کو عذاب بناکر رکھ دیا ہے۔بین الاقوامی بازار میں اتار چڑھاؤ اورخستہ اقتصادی  صورتحال کی وجہ سے عام لوگوں کی  زندگی میں زخم پر نمک چھڑکنے والی بات ہوگئی ہے۔اس کا اصل سبب راحت رسانی کے اقدامات کی ناکامی ہے۔

۷۔ ڈیجیٹل ناکامی:  نوٹ بندی کے ساتھ ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کا سپنا سرد خا نے میں جا پڑا ہے۔ کیونکہ سائبر سیکیوریٹی کے مسائل، مناسب قوانین کی کمی اور دیگر وجوہات سے ملک کو ڈیجیٹل یا ای لین دین کی طرف لے جانے کی پالیسی کا راستہ بھٹک گیا ہے۔


Share: